ابنا: جنيوا دو اجلاس ميں شامي حکومت اور مخالفين کے نمائندوں نےجہاں ايک دوسرے پر الزامات عائد کئے وہيں بڑي طاقتوں کے درميان بھي شام سے متعلق اختلافات کھل کر سامنے آئے۔اس اجلاس ميں شامي حکومت کے مخالفين کے اتحاد کے سربراہ احمد جربا نے شامي حکومت کے خلاف الزمات عائد کرتے ہوئے شامي حکام سے کہا کہ وہ شام ميں انتقال اقتدار کے منصوبے پر فوري طور پر دستخط کرديں۔دوسري جانب شام کے وزير خارجہ وليد المعلم نے اس کانفرنس ميں کہاکہ شام غير ملکي دباؤ کے سامنے نہيں جھکےگا۔ انہوں نے اسي طرح دہشت گردوں کے حامي ملکوں پر شديد تنقيد کي۔اس درميان شامي وزير خارجہ کي تقرير کے دوران اقوامتحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون کي طرف سے نزاکتوں کا خيال نہ رکھا جانا بھي متنازعہ بحث کا باعث بن گيا اور شامي وفد نے بان کي مون کي حرکت پر سخت ردعمل ظاہر کيا ۔اقوام متحدہ کے سکريٹري حنرل نے شامي وزير خارجہ کي تقريرکے دوران جب وہ شام ميں دہشت گردوں اور ان کے حاميوں کے جرائم کا پردہ چاک کررہے تھ، تقرير کے طولاني ہونے کے بہانے ان کي بات کو بار بار کاٹنے کي کوشش کي ۔ شامي وزير خارجہ نے ان کي اس حرکت پر شديد ناراضگي کا اظہار کيا ۔ وليد معلم نے بان کي مون کي اس درخواست کے جواب ميں کہ وہ اپني تقرير ختم کرديں کہا کہ ميں شام ميں رہتا ہوں اور آپ نيويارک ميں رہتے ہيں بنابريں مجھے ہي شام کي صورتحال بيان کرديجئے۔شام کے وزير خارجہ نے امريکي وزير خارجہ جان کيري کے غير روايتي بيان کا بھي جس ميں انہوں نے کہا تھا کہ شام کي آئندہ ممکنہ عبوري حکومت ميں بشار اسد کا کوئي رول نہيں ہونا چاہئے، جواب ديتے ہوئے کہا کہ مسٹر جان کيري اور دنيا ميں کسي کو بھي اس بات کاحق نہيں پہنچتا کہ وہ خود کو شامي عوام کا ترجمان سمجھے۔ وليد معلم نے جان کيري کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسي کو بھي اس بات کا حق نہيں پہنچتا کہ وہ کسي ملک کے صدر کي قانوني حيثيت پر سواليہ نشان لگائے۔ انہوں نے کہا کہ شام کي تقدير کا فيصلہ اگر کوئي کرسکتا ہے تو وہ صرف اور صرف شام کے عوام ہيں۔ شامي وزيرخارجہ وليد معلم نے کہا کہ شامي وفد شامي عوام فوج اور شام کے صدر کا نمائندہ وفد ہے اور اب وقت آگيا ہے کہ وہ حقائق روشن ہوں جنہيں مخدوش کرديا گيا تھا ۔ شامي وزيرخارجہ نے کہاکہ يہ افسوس کا مقام ہے کہ اس کانفرنس ميں ايسے ملکوں کے نمائندے شريک ہيں جن کے ہاتھ شامي عوام کے خون سے رنگين ہيں۔دوسري جانب اگر چہ يہ کہا جارہا ہے کہ شام کے بحران کے حل کے بارے ميں امريکا اور روس کے درميان بہت سے اختلافات حل ہوگئے ہيں ليکن جنيوا دو اجلاس نے يہ ثابت کرديا ہے کہ ان دونوں ملکوں کے درميان جنيوا ايک کے بيان کي تشريح پر اختلافات پوري قوت کے ساتھ باقي ہيں۔ امريکا کا کہناہے کہ جنيوا -1 کے بيان کا مطلب يہ ہے کہ شام کي آئندہ عبوري حکومت ميں بشار اسد کا کوئي رول نہ ہو جبکہ روس کا کہنا ہے کہ جنيوا ايک اجلاس کے بيان سے يہ کہيں نہيں ثابت ہوتا کہ ممکنہ عبوري حکومت ميں بشاراسد کے رول کا انکار کيا گيا ہو۔ روس کا کہنا ہےکہ شام کے عوام پر کوئي بھي غير ملکي منصوبہ مسلط نہيں کيا جانا چاہئے۔ کانفرنس ميں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ يہ وہ مسئلہ ہےجس پر امريکا اور روس کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہيں۔
.......
/169